کیریئر پلاننگ 2035 کی (قسط اوّل)
سیانوں کے ایک قول کے مطابق آپ جسمانی طور پر تو زمانۂ حال (Present) یعنی 2026 میں رہ رہے ہیں، لیکن ذہنی طور پر آپ ماضی، حال یا مستقبل، کسی بھی زمانے میں پائے جا سکتے ہیں۔ آئیں! کیریئر کونسلنگ کے پس منظر میں اسے سمجھتے ہیں۔
فرض کریں کہ آپ کا بیٹا یا بیٹی آٹھویں (8th) میں ہے اور آپ اس کی کیریئر کونسلنگ کر رہے ہیں۔ ایسے میں آپ تین طرح کی کیریئر کونسلنگ کریں گے جو کچھ یوں ہو گی:
*ماضی میں رہ کر:
آپ بچے سے کہتے ہیں:
"بیٹا! ہمارے زمانے میں ڈاکٹر، انجینئر اور سرکاری افسر بننا سب سے اچھا سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے خاندان میں بھی زیادہ تر لوگ انہی شعبوں میں گئے ہیں۔ تم بھی میٹرک میں اچھے نمبر لو، پری میڈیکل یا پری انجینئرنگ کرو اور پھر انھی شعبوں میں آگے بڑھنا یا سی ایس ایس کر لینا۔"
یہ کونسلنگ دراصل بچے کی نہیں بلکہ آپ کی کونسلنگ تھی جو کبھی کسی بڑے نے کی ہو گی۔
*حال میں رہ کر
آپ کہتے ہیں:
"بیٹا! آج کل کمپیوٹر کا زمانہ ہے۔ AI آ گئی ہے، ڈیٹا سائنس کا بڑا scope ہے، Software Engineering اچھی ہے، اس لیے تم Computer Science کر لینا۔"
یہ پہلی کونسلنگ سے بہتر ضرور ہے، لیکن اس میں بھی ایک مسئلہ ہے: آپ آٹھویں جماعت کے بچے کو آج کی دنیا کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
سوچیں کہ آپ کا بچہ آج آٹھویں میں ہے، میٹرک چند برس بعد ہوگا، یونیورسٹی سے فراغت میں ابھی وقت ہے، اور پھر اس کی professional life شروع ہوگی۔ ایسے میں اولاد کو آج کی دنیا کے لیے تیار کرنا چاہیے یا اُس زمانے کے لیے کہ جس میں اس کی پروفیشنل لائف شروع ہو گی؟
*مستقبل میں رہ کر
آپ بیٹے یا بیٹی کو کچھ کہنے سے پہلے مختلف شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، کچھ متعلقہ آرٹیکلز پڑھتے ہیں اور کچھ معلوماتی وڈیوز دیکھتے ہیں۔ پھر آپ مشاہدات اور حاصل کردہ معلومات کی بِنا پر پیشن گوئی کرتے ہیں کہ جب آپ کا بچہ پروفیشنل لائف میں قدم رکھے گا، یعنی 2035، تو اُس وقت اُسے کیا علم اور کیا مہارتیں درکار ہوں گی۔ اِسی پیشن گوئی کو بنیاد بنا کر آپ اپنے بچے کو کیریئر کے حوالے سے کچھ مشورہ دیتے ہیں۔
تینوں طرح کی کونسلنگ آپ کے سامنے ہے، خود ہی فیصلہ کرلیں کہ کونسلنگ کی کون سی قسم بہترین ہے۔ اس موقع پر آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو گا کہ کچھ ایسا شارٹ کٹ بتائیں کہ ہمیں جلد ہی معلوم ہو جائے کہ 2035 کی جاب مارکیٹ کے مطابق فیلڈز آف اسٹڈیز اور ڈگریز کون سے ہیں۔ اس موضوع پر مزید بات کرنے سے پہلے اپنے ارگرد ہونے والی تبدیلیوں پر غور کریں۔ یہ تبدیلیاں کچھ یوں ہیں:
*بہت سے میڈیکل لیبز بن چکی ہیں اور بن رہی ہیں۔ مریضوں کے علاج کی تشخیص اور اُن کے علاج کے لیے ڈیجیٹل آلات کا استعمال بڑھ چکا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ میڈیکل ٹیکنالوجسٹ کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ اسی طرح ان آلات کو بنانے والے انجینئرز کی بھی ضرورت ہو گی اور انھیں درست رکھنے اور ٹھیک کرنے والے مکینکس کی مانگ بھی بڑھے گی۔
*سولر اور ونڈ انرجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل انجن کی جگہ الیکٹریکل انجن آرہے ہیں۔ ان تمام نئے شعبوں میں انجینئرز کی ضرورت ہو گی۔
*آج بہت سے مینول کام مختلف اقسام کے روبوٹس کر رہے ہیں۔ ایسے میں میکاٹرونکس اور روبوٹکس کی فیلڈ میں افرادِ کار کی ضرورت ہو گی۔
*موسموں کی شدّت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات ہمارے سامنے ہیں۔ ان حالات میں انوائرمنٹل انجینئرز کی ضرورت بڑھے گی۔
*نئے گھروں کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ایسے میں ٹاؤن پلانرز اور اُن آرکیٹیکٹس کی ضرورت ہو گی کہ جو جدید دور کے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے پائیدار ٹاؤن پلاننگ کر سکیں۔
*ہم کمپیوٹر کو تیز سے تیز تر ہوتا دیکھ رہے ہیں، ایسے میں کمپیوٹر ہارڈویئر، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں ماہر افراد کی ضرورت بھی بڑھتی جائے گی۔
*آج آن لائن کوئی شَے منگوانا عام بات ہے۔ ایسے میں ای کامرس کے شعبے میں ان جابز کا اضافہ ہو گا جو آن لائن خرید و فروخت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سپلائی چین، آن لائن کسٹمر سروس اور ای کامرس پلیٹ فارمز سے متعلق ہوں گی۔
*آپ انٹرنیٹ پر کسی بڑے کیش اینڈ کیری پر تلاش کریں۔ آپ کو جہاں کیش اینڈ کیری کا ایڈریس ملے گا، وہیں ساتھ ہی وقت کا ایک گراف بھی ہو گا۔ یہ گراف بتائے گا کہ کیش اینڈ کیری میں کب رش ہوتا ہے اور کب گاہک کم ہوتے ہیں۔ یہ گراف ڈیٹا کی ایک شکل ہے۔ ایسا ہی اور بہت سی اقسام کا ڈیٹا بڑے بڑے کاروباروں میں generate ہوتا ہے۔ اس ڈیٹا کے تجزیے (analysis) سے بہت سے نتائج ملتے ہیں۔ ان نتائج کی روشنی میں ہی کاروبار کے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ غرض بزنس اینالیٹکس مستقبل کا ایک بڑا شعبہ ہو گا۔
*کیش اینڈ کیری کی طرح فنانس کے شعبے میں بھی بڑی بڑی کمپنیاں وجود میں آ رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بروقت رِسک کا اندازہ لگانا ہے جو ایکچوریَل سائنسز میں ہوتا ہے۔ یہ مضمون میتھ، سٹیٹس اور فنانس کا مجموعہ ہے۔ مستقبل میں اکاؤنٹس کے شعبے میں جانے کے خواہشمند افراد ایکچوریَل سائنس کو اپنا ہدف بنائیں۔ جس طرح فنانس میں رسک کا اندازہ لگانا اہم ہے، ایسے ہی اکنامکس میں کسی اکنامک پالیسی کے متوقع نتائج کا اندازہ بھی اہم ہے۔ یہ اندازہ اکانومیٹرکس کی مدد سے لگایا جاتا ہے جو میتھ، سٹیٹس اور اکنامکس کا مجمُوعہ ہے۔
*جس طرح کمپنیوں کا سائز بڑھ رہا ہے، ایسے ہی اُن کے لیے اکاؤنٹس، فنانس اور آڈٹ کے ذیلی شعبے چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ مستقبل میں انشعبوں کے کام Excel کے بجائے فنانشل ٹیکنالوجی یا فِن_ٹیک کی مدد سے ہوں گے۔ ایسے میں فنانشل ٹیکنالوجسٹ کے ساتھ ساتھ فنانشل انجینئرز کی مانگ بھی بڑھے گی۔
*ہم سوشل میڈیا کو اپنی آنکھوں کے سامنے پھلتا پھُولتا دیکھ رہے ہیں۔ اس شعبے میں مستقبل میں کانٹینٹ کریئیشن، ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ اور سوشل میڈیا اینالیٹکس جیسی اقسام کی جابز دستیاب ہوں گی۔
اُوپر کے پیراگراف میں ہم نے کی جابز کے بارے میں بتایا ہے۔ ان مشاہدات کی بنیاد پر ہم اہم نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔



