ایجوکیشنل کونسلر
ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ایجوکیشنل کاؤنسلر کا کام صرف طلبہ کو بیرونِ ملک دستیاب تعلیمی مواقع کے بارے میں بتانا یا مضامین اور ڈگریوں کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ ایسا سمجھنا درست ہے البتہ ایجوکیشنل کاؤنسلر کا کردار اس سے کہیں بڑا ہے، آئیے جانتے ہیں۔
👈🏻 کسی بھی اسکول میں کاؤنسلنگ کی مثالی صورت یہ ہے کہ چھٹی جماعت ہی میں طلبہ کے ذہنی رجحانات کا ٹیسٹ لے لیا جائے۔ کاؤنسلر ان ٹیسٹوں کے نتائج کو پڑھے اور اساتذہ کو آگاہ کرے کہ کون سا طالب علم کس مضمون میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے اور کون سا طالب علم کسی شعبے میں اضافی توجہ کا محتاج ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر اساتذہ ہر طالب علم کی انفرادی تعلیمی منصوبہ بندی (Individual Learning Plan) کر سکتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر کاؤنسلر اس منصوبہ بندی میں اساتذہ کی معاونت (support) بھی کر سکتا ہے۔
👈🏻 اسکولوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی طالب علم اچانک پڑھائی میں دلچسپی کھو دیتا ہے۔ بظاہر یہ مسئلہ تحریک (motivation) کی کمی کا لگتا ہے لیکن اس کے پیچھے سماجی، جذباتی یا خاندانی عوامل (factors) بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایجوکیشنل کاؤنسلر مسئلے کی تشخیص (diagonose) کرتا ہے اور پھر طالب علم، استاد اور ضرورت پڑنے پر والدین کو مناسب رہنمائی (guidance) فراہم کرتا ہے۔
👈🏻 اسکولوں میں اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ کوئی طالب علم ایک مخصوص مضمون میں مسلسل کمزور ہے، حالانکہ دیگر مضامین میں اس کی کارکردگی تسلی بخش ہوتی ہے۔ کاؤنسلر اس کمزوری کی تشخیص کرتا ہے، اُس کی نوعیت کو سمجھتا ہے اور حل کی مناسب حکمتِ عملی تجویز کرتا ہے۔
👈🏻 کچھ طلبہ کے بارے میں ابتدائی جماعتوں ہی سے یہ سننےکو ملتا ہے کہ وہ پڑھنے، لکھنے یا بنیادی حساب کتاب میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ اکثر ایسے طلبہ سیکھنے کی خاص مشکلات (Learning Difficulties) کا شکار ہوتے ہیں۔ ان مشکلات کی درست تشخیص ایک عام استاد کے لیے آسان نہیں، کاؤنسلر ہی ایسے طلبہ کا جائزہ لے کر اس کے مطابق تدریسی حکمتِ عملییا معاونت تجویز کر سکتا ہے۔
👈🏻 یقیناََ مضامین اور کیریئر کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرنا ایجوکیشنل کاؤنسلر کا کام ہے۔ اس کام کے علاوہ ایک کاؤنسلر وُہ سب کام بھی کرتا ہے کہ جن کا ذکر اوپر پیراگرافس میں آیا ہے۔ مزیدیہ کہ طلبہ کی سماجی اور جذباتی میدانوں میں رہنمائی بھی، ایجوکیشنل کاؤنسلر کا کام ہے۔ اس موضوع پر اگلی قسط میں بات ہو گی۔
👈🏻 اپنے تعلیمی کیریئر کی رہنمائی کے لیے ایجوکیشنل کاؤنسلر سے رابطہ کریں۔ اگر وُہ کوئی ٹیسٹ حل کرنے کو دے تو وُہ ٹیسٹ ضرور دیں۔ ٹیسٹ کے نتیجے اور کاؤنسلر کی رہنمائی کی روشنی میں اپنے کیریئر کا انتخاب خود کریں۔
👈🏻 قدرتی صلاحیت کا اندازہ لگائیں۔
تجربہ گاہ:
ایک پرائمری اسکول جہاں صبح اسمبلی میں ”دُعا“ یعنی ”لب پہ آتی ہے دُعا بن کر تمنّا میری“ زبانی پڑھی جاتی ہو۔ اسمبلی میں طلبہ و طالبات کے کھڑے ہونے کی جگہ کے عین سامنے ذرا اونچی سطح پر اساتذہ کے کھڑے ہونے کی جگہ ضرور ہونی چاہیے۔
Experiment:
تجربہ:
اسکول پرنسپل سے درخواست کریں کہ طلبہ و طالبات کو سپیکر پر گا کر پڑھی جانے والی ”دُعا“ سُنائی جائے۔ ساتھ ہی انھیں ہدایت کی جائے کہ وُہ اس دُعا کے ساتھ مل کر اپنی دُعا بھی پڑھیں۔ گائی ہوئی دُعا یو ٹیوب سے با آسانی ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ تجربہ والے دن اب اساتذہ کے ساتھ اونچی جگہ کھڑے ہو جائیں اور طلبہ و طالبات کے دُعا پڑھنے کا مشاہدہ کریں۔
👈🏻 آپ دیکھیں گے کہ ابتدائی دو اشعار کے وقت طلبہ و طالبات سنائی گئی دُعا کے ساتھ مل کر نہیں پڑھ پارہے البتہ وُہ کوشش ضرورکر رہے ہیں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ تیسرے شعر پر چند طلبہ و طالبات ویسے ہی گانے لگے ہیں کہ جیسا وُہ سُن رہے ہیں۔ اُن کے چہروں کے تاثرات سے لگے گا کہ وُہ گاتے ہوئے لُطف اندوز بھی ہو رہے ہیں۔ اگلے شعر پر چند اور طلبہ و طالبات بھی اُنھی کی طرح گانے لگیں گے۔ البتہ چند ایک آخر شعر تک اس کوشش میں ہوں گے کہ وُہ درست گا پائیں۔
👈🏻 جو طلبہ و طالبات جلد ہی سُنائی گئی دُعا کے ساتھ مل کر گانے لگے تھے اور لُطف بھی اٹھا رہے تھے، اُن میں موسیقی کی ذہانت (musical intelligence) اعلیٰ درجے کی ہے۔ جو ذرا بعد میں ایسا کرنے لگے تھے، اُن میںیہ ذہانت اوسط (average) درجے کی ہے۔ اور اُس کے بعد وُہ طلبہ و طالبات آتے ہیں کہ جو دیر سے درست گا پائے۔ یہ موسیقی کی ذہانت جانچنے کا ایک سادہ تجربہ ہے۔
👈🏻 جو طلبہ و طالبات جلد ہی دُعا کے ساتھ مل کر گانے لگے تھے، انھوں نے موسیقی کی تربیت نہیں لی تھی۔ اُن میں قدرتی طور پر یہ صلاحیت موجود تھی کہ وُہ جان پائیں کہ سُنے ہوئے الفاظ کی ادائیگی کا اُتار، چڑھاؤ کیسا ہے اور کس طرح ہم قافیہیا ہم ردیف الفاظ ل، یکے بعد دیگرے، ایک ترتیب میں آتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں اِن طلبہ و طالبات کے ہاں سُر اور لَے کی قدرتی سمجھ بوجھ موجود ہے۔ اسی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر وُہ جلد ہی درست گانے کے قابل ہوئے۔
👈🏻 جس طرح مشاہدے کر کے طلبہ و طالبات کی موسیقی کی ذہانت کا عمومی جائزہ لیا جاسکتا ہے، ویسے ہی ذہانت کی دوسری اقسام کا جائزہ ہو سکتا ہے۔ قدرتی صلاحیت کو جانچے بغیر کیریئر پلاننگ نہیں کرنی چاہیے۔ آپ بھی اپنی قدرتی صلاحیت کو جانچنے کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے کے لیے اگر کوئی ٹیسٹ ہو تو ضرور دیں۔
📞 واٹس ایپ: 03335766716



